نگارش:فاطمہ محمد عبد اللہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سےہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہر خواب کی تعبیر حاصل کرنے کیلئے جدوجہد، کوشش،قربانی اور عمل ضروری ہے۔اسی لئے خدا وند کا ارشاد گرامی ہے "لیس للانسان الا ما سعی " انسان کو وہی چیز ملتی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا خواب تھا، جس کو حاصل کرنے کیلئے قائد اعظم نے بہت جدوجہد کی اور آخر کار پاکستان آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں قائد اعظم اپنے خواب کی تعبیر حاصل کرپائے ؟ ہم اس مختصر سی تحریر میں قائد اعظم کے پاکستان ، پاکستان بنانے کے اہداف و مقاصد اور آج کے پاکستان کا مقایسہ کریں گے اور ان کے فرق اور تضاد کو بیان کریں گے۔
یوں تو پاکستان کے بارے میں قائد اعظم کا جو خواب تھا ، اس کے بارے میں رائٹرز حضرات نے کتابوں اور مقالوں کی شکل میں بہت کچھ لکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اگر ہم اپنے اس عظیم لیڈر کے پاکستان کے بارے میں جو ان کا خواب تھا کو سمجھنا چاہیں تو سب سے بہترین راہ ان کی اپنی گفتگو کا سننا ہے ۔ ہمیں چاہیئے کہ قائد کی تمام تقریروں کا مطالعہ کریں اور جانيں کہ پاکستان آزاد کرانے کا اصل مقصد کیا تھا، وہ تقسیم ہند پر کیوں مجبور ہوئے اور انھوں نے پاکستان بنانے کی کیوں ضرورت محسوس کی؟ قائد کی کیا خواہش اور تمنا تھی، وہ پاکستانی معاشرے سے کیا امیدیں رکھتے تھے؟ قائد اعظم کی شخصیت ایک عظیم شخصیت تھیں آپ نے سوئی ہوئی قوم کو جگایا، غلامی سے آزاد کرایا ، برطانوی راج اور ہندو سازش کو ہرایا، ہم کو پاکستان جیسا مسلم ملک دلایا ، جب ہم آپ کی تقاریر کا جایزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو الفاظ قائد اعظم اپنی تقریروں میں استعمال کرتے تھے وہ حریت، مساوات اور اخو ت کے ہیں۔یہی چیزیں ہمارے ی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی نظام کی اساس ہونی چاہئیں تا کہ ہم اس ملک میں ایسا نظام تشکیل دے سکیں جو اقبال اور قائد اعظم کے الفاظ میں ’’روح انسانی کی بقا کا ضامن ‘‘ہو۔محترمہ فاطمہ جناح نے مارچ 1954ء میں ڈھاکہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اگر آپ لوگ جرات اور ہمت سے کام لیں اور سراپا جدوجہد بن جائیں توا س ملک کو صحیح اسلامی آئیڈیالوجی پر استوار کر سکتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی آئیڈیالوجی کیا ہے، اس کا مطلب ہے جمہوریت، اخوت، سچائی اور انصاف۔ یہ اسلام کے ستون ہیں۔
اگر ہم قائد اعظم کے پاکستان اور آج کے پاکستان کا فرق جاننا چاہئے تو ہمیں قائدکے دور کے پاکستان اور آج کے پاکستان کی تاریخ پرنظر کرنی ہوگی جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو قائد اعظم کے بارے میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ محترم قائد ایک عظیم شخصیت تھی جب بھی آپ مسلمانوں پر ظلم ہوتے ہوئے دیکھتے تو آپ کو بہت دکھ اور تکلیف ہوتی تھی ،مسلمانوں کے لئے آپ ایک درد دل رکھنے والے محبوب رہبر تھے اور انسان کا کمال ہی یہی ہے کہ جب اپنے جیسے کسی انسان پر ظلم ہوتے دیکھے تو اس مظلوم کی دفاع کے لئے اٹھ کھڑے ہو ۔ رسول خدا کی پیاری حدیث بھی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں : من اصبح ولم یہتم بامور المسلمین فلیس منھم جو شخص بھی ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس نے مسلمانوں کے کسی مسئلہ کو اہمیت نہ دی ہو تو وہ مسلمان نہیں ۔یہاں پر امیر المومنین ع کا وہ خوبصورت جملہ جو آج بھی اقوام متحدہ کے دیوار پر لکھا ہوا ہے کو لکھنا ضروری سمجھتی ہوں جس کو نہج البلاغہ میں ارشاد فرمایا (و اشعر قلبك الرحمة للرّعيّة و المحبّة و اللطف بهم و لا تكوننّ عليهم سبعا ضاريا تغتنم اكلهم فانّهم صنفان امّا اخ لك في الدين و اما نظير لك في الخلق ) رعايا كے ساتھ مهرباني ، محبت و رحمت كو اپنے دل كا شعار بنا لو ، اور خبر دار ان كے حق ميں پھاڑ كھانے والے درندوں كي مثل نه هو جانا ،كه انهيں كھا جانے هي كو غنيمت سمجھنےلگو كه مخلوق خدا كي دو قسميں هيں : بعض تمهارے ديني بھائي هيں اور بعض تمھارے جيسے بشر هيں ۔
(بقول سعدي شيرازي )
بني آدم اعضاي يك پيكراند كه در آفرينش زيك گوهراند
چون عضوي بدرد آورد روزگار ديگرعضوها را نماند قرار
تو كز محنت ديگران بي غمي نشايد كه نامت نهند آدمي
بني آدم ايك هي جسم كي اعضاء هيں اس لئے وه خلقت ميں ايك هی جوهر سے هيں ۔ جب زمانه ايك حصے كو درد ميں مبتلا كرتا هے تو دوسرے اعضاء بھي بے چين اور بے قرار هو جاتے هيں اور تو، جو كه دوسروں كي مصيبت سے بے غم هے تجھے انسان كہنا نا مناسب هے۔
لیکن آج کے پاکستان کی صورت حال بیان کرتے ہوئے انسانیت شرما جاتی ہے آج کے پاکستانی حکمران کے ہاں انسانیت کی کوئی قدر نہیں ہے آج جس کی بیل اس کی لاٹھی ہے ، ان کو صرف شیطانی ت چمکا کے اپنے بینگ بیلینس بنانا ہے ان کے ہاں غریبوں کو یاد کرنا جرم حساب ہوتا ہے وہ لوگ اسلامی احکام اور قائد اعظم کے آرمان پر پانی ڈال رہے ہیں ۔ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کیوں کہ ہمارے ت کی کرسی پر ایسے لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے جو ت کے معنی سے بھی واقف نہیں ہوتے ہمارے پارلیمنٹ کے سیٹوں پر بھی کوئی میرٹ نہیں بلکہ وراثت کی بنا پر بٹھایا جاتا ہے قانون اور اصول کی رعایت نہیں کرتے جس کی ایک بڑی مثال پنجاب کے سابقہ وزیر اعظم جناب نواز شریف اور ان کے برادر ارجمند وزیر اعلی جناب شہباز شریف ہیں جن کی کہانی کچھ زیادہ عجیب ہے ایک طرف دیکھا جائے تو ایک بھائی وزیر اعظم اور دوسرا بھائی وزیر اعلی کیا ان دونوں کے علاوہ پورے پنجاب میں کسی اور میں وزیر اعظم اور وزیر اعلی بننے کی لیاقت نہیں تھی اور دوسری طرف سے دیکھا جائے تو کتنے سالوں سے جناب شہباز شریف وزیر اعلی بنے ہوئے ہیں کسی بھی ملک میں ایسا قانون نہیں ،صرف پاکستان کے اندر یہ قانون نظر آیا ہے۔ یہ سب عوام کی بے شعوری اور حکمرانوں کی ت سے جہالت کی وجہ سے ہے۔ یہ ہر انسان عاقل جانتا ہے کہ انسان فطرتا سماجي هوتا هے يا يوں كهوں انسان فطرتا اجتماع پسند هوتا هے لهذا بغير سماج و اجتماع كے زندگي بسر نهيں كر سكتا اور اجتماع كا لازمه نياز بشري كي تكميل هے اور نياز بشري كي تكميل كا لازمه تدبير (سياست) اور حكومت هے اسي لئے ابن خلدون کہتا هے حكومت كي تشكيل انسان كي فطري ضرورتوں كا تقاضا هے ۔ ارسطو جيسا مفكر کہتا هے سياست بالاترين نيكي هے ۔لہذا آج کے ت دان کو زرا سوچنا چاہئے کہ دنیا کے مال و دولت ،زرق و برق ، اور خواہشات نفسانی نے انہیں خود سے غافل بنا دیا ہے ، جو بھی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینگے اس کا انجام یہی ہوگا ،جیسا کہ امام حسین نے ا پنے دشمنوں کے بارے میں یہی فرمایا تھا: (و قد تذاورعلیہ من غرتہ الدنیا و باع حظہ بالارذل الادنیٰ )یہ وہ لوگ تھے جنہیں زندگی کے فریب نے خود میں مشغول کر دیا تھا ۔ مادی دنیا ، اس کی زرق و برق اور خواہشات نفسانی نے انہیں خود سے غافل بنا دیا تھا ۔ و باع حظہ بالارذل الادنیٰ ، انہوں نے سعادت و خوشبختی جیسے عظیم سرمایہ کو ، جو خدا خلقت کے ساتھ ہر انسان کو عطا کرتا ہے ، بہت نا چیز اور حقیر داموں میں بیچ دیا تھا ۔حضرت لقمان حکیم بھی اپنے بیٹے کو نصیحت فرماتے ہوئے کہتے ہیں:یا بنی ان الدنیا بحر عمیق قد غرق فیہا عالم کثیر فلتکن سفینتک فیہا تقوی اللہ و حشوھا الایمان و شراعھا التوکل ، و قیمھا العقل و دلیلھا العلم و سکانھا الصبر
اے میرے بیٹے دنیا بہت گہرا سمندر ہے اور اس گہرے سمندر میں بہت بڑی دنیا عرق ہو چکی ہے اس سمندر میں تمھاری کشتی خدا کا تقوی ہونا اور زاد و توشہ ، ایمان، اس کا بادبان توکل، ناخدا عقل اور راہنما علم اور اس کے ساکن صبر و شکیبایی ہے۔
میرا عقیدہ ہے کہ اگر آج بھی ہم جدوجد کرکے قائد اعظم کا خواب پورا کرنا چائیے تو مغرب کی غلامی اور ان کے چنگال سے نکل کر قرآن کے سنہرے اصول پر عمل اور پیغمبر اسلام اور اہلبیت اطہار ع کے پاکیزہ سیرت کو اپنے لیے آئڈیل بنا کر ایسے ت دانوں کو ی امور سونپ دیا جائے جو انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے کو اپنا وظیفہ اور اپنی شرعی ذمہ داری سمجھے ۔بس صرف ہمت بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔
المرء یطیر بھمتہ مرد ہمت کے ذریعے پرواز کرتا ہے ۔انسان کی ہمت جتنی بلند اتنا ہی وہ پرواز کر سکتا ہے لیکن انسان کا ہدف تو عظیم ہے مگر اس ہدف تک پہنچنے کی ہمت نہ ہو تو وہ کبھی بھی اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکتا ؛ لہذا انسان کو اسی وقت کامیابی ملتی ہے جب نیک ہدف کے لیئے پختہ ارادہ اور بلند ہمت ہو
ارادے جن کے پختے ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گبھرایا نہیں کرتے
امیر المومنین ع کا فرمان ہے (قدر الرجل علی قدر ہمتہ )ہر شخص کی ارزش اور قیمت اس کی ہمت کے لحاظ سے ہے
(من صغرت ہمتہ بطلت فضیلتہ )جس کی ہمت کم ہو وہ اپنی فضیلت کھو دیتا ہے ۔ امام سجاد اپنی مناجات میں فرماتے ہیں (اسئلک من الھمم اعلی ھا
پروردگارا !تجھ سے عالی ترین ہمت کا طالب ہوں ۔
قائد اعظم نے اپنی فہم و فراست اور علم سے پاکستان حاصل کیا۔ قائد کا خواب تھا کہ پاکستانی عوام تعلیم کی دولت سے مالا مال ہوں، قائد نے اپنی دولت کا زیادہ تر حصہ مختلف رفاہی اداروں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کےجائداد میں سے 25000 روپے انجمن اسلام بمبئی، 50000 روپے بمبئی یونیورسٹی، 25000 روپے عریبک کالج دہلی، رہائشی جائیداد کا ایک حصہ سندھ مدرسہ کراچی، ایک حصہ اسلامیہ کالج پشاور اور بقیہ تیسرا حصہ علی گڑھ یونیورسٹی کو دیا گیا۔ قائد اعظم کی وصیت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ تعلیم کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ پاکستانی عوام میں تعلیم عام ہوجائے۔ اس بات کا اندازہ ہمیں چودہ نکات کے بارویں نکتہ سے بھی ہوتا ہے وہ نکتہ یہ تھا ،آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد کی کمی ہے اور قائد کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، اس کی ایک بڑی وجہ افراط و تفریط ہے جس کے پاس دولت ہے تو حد سے زیادہ ہے اور جس کے پاس نہیں ہے اس کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے بھی نہیں ہے ۔ جن کے پاس مال و دولت ہے ان کے بچے اعلاء تعلیم حاصل کرتے ہیں ، تعلیم حاصل کرنے کے ان کے پاس تمام مواقع موجود ہوتے ہیں،لیکن غریب کے بچے مشکل سے میٹرک کرپاتے ہیں۔ ایک دوسری بڑی وجہ تعلیمی نظام کا صحیح نہ ہونا ہے۔ رشوت لے کر ایک جاہل فرد کو ٹیچر رکھ لیا جاتا ہے اور تعلیم یافتہ اور ذہین فرد سے اس کا حق چھین لیا جاتا ہے، آج کل پاکستان میں ڈگریاں بکا کرتی ہیں، نمبر بکا کرتے ہیں غریب بچہ بہت محنت سے امتحان کے لئے پڑھتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ پیسوں سے نمبر نہیں خرید سکتا، لیکن اسی غریب بچہ کے نمبر امیروں کو بیچ دیئے جاتے ہیں اسی لیئے امیر المومنین فرماتے ہیں : ( فالحق اوسع الاشياء في التواصب و اضيقها في التناصب)خطبہ 216؛ حق مدح سرائي كے اعتبار سے تو بهت وسعت ركھتا هے ليكن انصاف كے اعتبار سےبهت تنگ هے ايك اور مقام پر فرماتے هيں (ان الحق ثقيل مری ء و ان الباطل خفيف و بیء) ؛ هميشه حق سنگين هوتا هے مگر خوشگوار هوتا هے اور باطل هميشه آسان هوتا هے مگر مهلك هوتا هے او نه حق كي پيشاني پر ايسے نشانات هوتے هيں جن كے زريعه صداقت كے اقسام كو غلط بيانی سے الگ كركےپهچانا جا سكے جب حق كي كوئي علامت نهيں تو اسكو فقط عقل اور معرفت كي روشني ميں اور تقوي اور ايمان كي معيار سے پهچانا جاسكتا هے ہمارے تعلیمی اداروں میں اقربا پروری کی حد سے زیادہ بول بالا ہے عدالت نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی قرآن کی آیت ہے (واذا قلتم فاعدلوا و لو كان ذا قربي و بعهد الله اوفوا ذالكم و صّاكم به لعلّكم تذكرون) اور جب بات كرو تو انصاف كے ساتھ، چاهے اپنے اقرباء كے خلاف هي كيوں نه هواور عهد خدا كو پورا كرو كه پروردگار نے تمهيں اس كي وصيت كي هے كه شايد تم عبرت حاصل كرسكو- هر معاشره كي اصل مشكل يہي هے كه تمام لوگ حق كي بات تو بهت زور و شور سے كرتے هيں ليكن عمل كرتے وقت خاص طور سے اپني جان بچانے كي كوشش كرتے هيں لیکن یہ بات ہر كسي كو ذهن ميں ركھنا چاهئے۔
عمل سے زندگي بنتي هے جنت بھي جهنم بھي يه خاكي اپني فطرت ميں نه نوري هے نه ناري هے
قائد اعظم پاکستان کو امن و ایمان کا گہوارہ بنانا چاہتے تھے ، قرآن سے بہت عقیدت رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ قرآن کے قوانین پاکستان میں نافذ ہوں ، ان کے مطابق اسلام ضابطہ حیات ہے اور اس بات کا اندازہ ہم ان کی تقاریر سے لگا سکتے ہیں، 11 جنوری کو 1938ء کو گیا ریلوے سٹیشن (بہار) پر ایک بہت بڑے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا:۔۔۔ اسلام ہمیں مکمل ضابطۂ حیات دیتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک مذہب ہے بلکہ اس میں قوانین، فلسفہ اور ت سب کچھ ہے۔ در حقیقت اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ایک آدمی کو صبح سے رات تک ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم اسلام کا نام لیتے ہیں تو ہم اسے ایک کامل لفظ کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ ہمارہ کوئی غلط مقصد نہیں، بلکہ ہمارے اسلامی ضابطہ کی بنیاد آزادی، عدل و مساوات اور اخوت ہے۔ آپ کی اس تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ایسا پاکستان چاہتے تھے جس میں سب انسان برابر ہوں چاہے وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اخوت اور بھائی چارا عام ہو، حاکم عادل ہواور اسلام کا قانون نافذ ہو۔ لیکن ان کے یہ سارے خواب ہوا میں تحلیل ہوگئے اور شرمندہ تعبیر نا ہوسکے، کیونکہ آج جب ہم اپنے ملک پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں کہیں بھی عدالت، آزادی، اخوت، امن اور اسلام نظر نہیں آتا۔ نا اہل افراد ت کو کھلونے کی طرح استعمال کر رہے ہیں اور خود کو مسلم معاشرہ کا حاکم تصور کرتے ہیں، ان کو اسلام کا تو کیا پتہ ایک چھوٹی سی سورہ بھی یاد نہیں ، جب انہوں نے قرآن اور اسلامی کتابوں کا مطالعہ ہی نہیں کیا تو وہ کیسے اسلامی نظام قائم کےسکتے ہیں اور معاشرہ میں عدالت قائم کرسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے ، خبروں میں قتل، غارت گری، بم بلاسٹ اور عصمت دری کے علاوہ کچھ سنے کو نہیں ملتا۔ آج پاکستان میں کوئی مذہب آزاد نہیں۔پس اگر ہمیں چاہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے خواب کو پورا کرنے کے لئے قرآن اور قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کریں اور ہمیں قائد اعظم کے دئیے ہوئے اصولوں پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
------------------------------------------------
خدا ہم سب کو قرآن پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔
منابع مآخذ
سورہ نجم، آیہ 39
کافی، جلد 2، ص 164
نهج البلاغه ، مكتوب 53.
کلینی ، صول کافی ج 1 ص 13 (کتاب العقل و الجھل )
بحار الانوار /385
شرح غرر الحکم ج 4 ص 500
نہج البلاغہ، حکمت 368
انعام : آيت 152
کتاب:علامہ اقبال، قائد اعطم اور نظریہ پاکستان، نویسندہ:ڈاکٹر اسرار احمد ص 37،
درباره این سایت